تیزاب حملے کی متاثرہ رقیہ خاتون کو 23 سال بعد ملا انصاف | درد بھری کہانی اور 5 لاکھ معاوضہ
آگرہ کی ایک دل دہلا دینے والی کہانی نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ 14 سال کی عمر میں تیزاب حملے کا شکار ہونے والی رقیہ خاتون کو آخرکار 23 سال بعد انصاف ملا ہے۔ حکومت اتر پردیش نے انہیں 5 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم ان زخموں کو بھر سکتی ہے جو برسوں پہلے دیے گئے تھے؟
Source @X (Twitter)
pointofview25.blogspot.com
رقیہ کی درد بھری کہانی
7 ستمبر 2002 کو آگرہ کے اعتماد الدولہ علاقے میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ 14 سالہ رقیہ پر ایک سر پھرے نوجوان نے اس لیے تیزاب پھینک دیا کیونکہ اس نے اس کی شادی کی خواہش کو ٹھکرا دیا تھا۔ اس حملے نے رقیہ کی زندگی کو تاریکی میں دھکیل دیا۔
حملہ آور کون تھا؟
رقیہ پر حملہ کرنے والا علی گڑھ کے ترکمان گیٹ تھانے کا رہائشی عارف تھا، جو رکشہ چلاتا تھا۔ وہ رقیہ سے 10 سال بڑا تھا اور شادی پر اصرار کرتا تھا۔ رقیہ نے انکار کیا تو اس نے دھمکی دی:
"اگر وہ میری نہیں ہوئی تو میں اسے کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا"۔
اسی ضد اور جنون نے اس کو ایک ظالمانہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
رقیہ کی جنگ اور ہمت
تیزاب حملے کے بعد رقیہ کے چہرے اور جسم کا بیشتر حصہ جھلس گیا۔ کئی سرجریاں اور سالوں کی تکلیف کے باوجود رقیہ نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ کہتی ہیں:
"میں نے 23 سال تک بے پناہ درد برداشت کیا۔ آج مجھے خوشی ہے کہ انصاف ملا اور میرا حملہ آور جیل کے پیچھے ہے۔ اب میں دوسری متاثرہ لڑکیوں کی مدد کروں گی۔"
انصاف اور معاوضہ
2025 میں بالآخر رقیہ کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ ملا جو براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا۔ یہ فیصلہ صرف رقیہ کے لیے نہیں بلکہ ان تمام ایسڈ اٹیک متاثرین کے لیے امید کی کرن ہے جو انصاف کے منتظر ہیں۔
نتیجہ
رقیہ کی کہانی صرف ایک متاثرہ لڑکی کی نہیں بلکہ حوصلے اور جدوجہد کی علامت ہے۔ ان کا حوصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اندھیرا چاہے کتنا بھی گہرا ہو، امید کی روشنی ضرور چمکتی ہے۔

تبصرے