مسلم طالبہ کو حجاب پہننے سے روکا گیا تو اس نے اسکول کو ہی الودا کہہ دیا
حجاب پہننے سے روکا گیا تو طالبہ نے اسکول کو ہی الوداع کہہ دیا، ٹی سی حاصل کر دوسرے اسکول میں لیں گی داخلہ
کیرالہ کے پالوروتھی کے ایک سرکاری اسکول میں حجاب پہننے پر تنازعہ میں پھنسے طالبہ نے اب اسکول نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔طالبہ کے والد نے فیس بک پوسٹ کے ذریعے یہ معلومات شیئر کیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کی بیٹی اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ اسکول سے ٹی سی حاصل کریں گی اور دوسرے اسکول میں داخلہ کرائیں گے۔
کیا ہے تنازعہ؟
حال ہی میں، آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ حجاب پہن کر اسکول آئی تھی۔ حجاب پہن کر آنے کے سبب طالبہ کو ایک ٹیچر نے کلاس سے نکال دیا تھا۔ اس واقعہ نے کئی علاقوں میں تنازعہ کو جنم دیا۔ وزیر تعلیم اور حکومت نے مداخلت کی۔ اسکول انتظامیہ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ اس واقعہ سے متعلق تنازعہ کے درمیان، طالبہ کے والد نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ وہ اسے دوسرے اسکول میں داخل کرائیں گے۔
طالبہ کے والد کا الزام
طالب علم کے والد نے فیس بک پر لکھا کہ اتنے دنوں سے اسکول نہ آنے کے باوجود اسکول انتظامیہ نے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا۔ چنانچہ میری بیٹی کو سکول سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثنا، کیرالہ حکومت اور محکمہ تعلیم نے حجاب پہننے والوں کو سر ڈھانپ کر اسکول جانے کی اجازت دینے کے مطالبے پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بنیادی حق قرار دیا ہے

تبصرے